قومی پیغام امن کمیٹی امن، محبت اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، طاہر اشرفی
چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کہا ہے کہ پاکستان کے علماء و مشائخ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ قومی پیغام امن کمیٹی ملک میں امن، محبت، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے بھرپور انداز میں سرگرم ہے اور اس نے انتہا پسندی کے خلاف ایک واضح قومی بیانیے کو بھی اجاگر کیا ہے۔
ازبک صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے جید علماء نے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور بے گناہ افراد کے قتل کے خلاف واضح فتاویٰ جاری کیے ہیں اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سال سے زائد عرصے تک افغان عوام کی میزبان کی اور ہر مشکل وقت میں ان کی خدمت کی ہے۔ تاہم، یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے نتیجے میں بے گناہ شہری شہید اور جاں بحق ہو رہے ہیں۔ کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر دہشت گرد افغانستان سے پاکستان کیوں آ رہے ہیں اور ہمارے معصوم بچے و شہری ان کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں؟ اس صورتحال پر اب مزید خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں، اس لیے خطے کے ممالک اور عالمی برادری کو اس سنجیدہ معاملے پر غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کا تحفظ اور اپنے شہریوں کی جان و مال کا دفاع ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور پاکستان کو اپنی سلامتی کا پورا حق حاصل ہے۔
بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان مختلف مذاہب اور مسالک کا گہوارہ ہے جہاں تمام طبقات مل کر ملک کے امن، استحکام اور ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قومی پیغام امن کمیٹی اسی مقصد کے تحت بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے اور یہ قومی اتحاد کی ایک عملی مثال ہے۔
یہ ملاقات اور گفتگو اس وقت سامنے آئی جب ازبکستان کے صحافیوں کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر موجود ہے۔ اس اہم اجلاس میں قومی پیغام امن کمیٹی کے مرکزی اراکین بھی موجود تھے، جن میں علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ توقیر عباس، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، مولانا زبیر فہیم، مولانا حافظ محمد مقبول، بھگت لال، سردار شمشیر سنگھ اور دیگر جید علماء و مشائخ بھی شریک تھے۔