متحدہ مدارس کونسل اور قومی پیغام امن کمیٹی
مسائل سے حل کی طرف
تحریر: مولانا محمد قاسم قاسمی
ناظم اعلیٰ، وفاق المدارس و جامعات دینیہ پاکستان
پاکستان میں دینی مدارس اور ریاست کے تعلق کی بحث نئی نہیں۔ کبھی رجسٹریشن، کبھی بینک اکاؤنٹس، کبھی اسناد کی مساوات اور کبھی غیر ملکی طلبہ کے ویزوں کا معاملہ سامنے آتا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں نئے دینی تعلیمی بورڈز اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجس ایجوکیشن (DGRE) کے قیام نے مدارس اور ریاست کے درمیان رابطے کا ایک نیا ادارہ جاتی راستہ پیدا کیا ہے۔
اسی ماحول میں متحدہ مدارس کونسل پاکستان ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر نمایاں ہوئی ہے، جس نے مدارس کے بینک اکاؤنٹس، رجسٹریشن اور دیگر انتظامی مسائل کو منظم انداز میں متعلقہ اداروں کے سامنے رکھا۔ اس پورے عمل میں قومی پیغام امن کمیٹی نے دینی قیادت، حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور مکالمے میں کردار ادا کیا، جبکہ DGRE نے ان معاملات کو انتظامی اور عملی سطح پر آگے بڑھایا۔
اس جدوجہد میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبدالرحیم، مولانا محمد قاسم قاسمی، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، مولانا زبیر فہیم، مولانا یوسف کشمیری، مفتی عبداللطیف، عادل عطاری اور مختلف دینی تعلیمی بورڈز و جامعات کے ذمہ داران اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
مدارس کے بینک اکاؤنٹس کا معاملہ اس مشترکہ کوشش کا ایک اہم عملی امتحان تھا۔ یہ مسئلہ طویل عرصے سے مدارس کے لیے مشکلات کا باعث بنا ہوا تھا۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے قانونی بینک اکاؤنٹ مالی شفافیت، عطیات کے ریکارڈ، تنخواہوں اور دیگر انتظامی معاملات کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ اب اسلام آباد سے مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا عملی آغاز اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک دیرینہ مسئلہ مطالبات اور مذاکرات سے آگے بڑھ کر حل کی طرف آیا ہے۔
اس پیش رفت کے حوالے سے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کے مسائل، بالخصوص بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ذاتی دلچسپی لی، جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور متعلقہ اداروں کی کوششوں سے اس دیرینہ مسئلے کے حل میں عملی پیش رفت ممکن ہوئی۔ ان کے مطابق جس سنجیدگی اور ذاتی توجہ سے بینک اکاؤنٹس کے مسئلے کو حل کیا گیا ہے، اس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مدارس کے رجسٹریشن، اسناد، ویزوں اور دیگر دیرینہ مسائل بھی مرحلہ وار حل ہوں گے۔
اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ کامیابی کا کریڈٹ کس کو ملتا ہے، بلکہ اس طریقہ کار کی ہے جس کے تحت علماء، مدارس، حکومت اور متعلقہ ادارے ایک میز پر بیٹھ کر برسوں سے موجود مسائل کا عملی حل تلاش کر رہے ہیں۔
مدارس اور ریاست کے تعلقات: تنازع سے ادارہ جاتی مکالمے تک
یہاں قومی پیغام امن کمیٹی کا کردار بھی اہم ہے۔ علماء اور مدارس پاکستان کے مذہبی و سماجی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ریاست اور دینی قیادت کے درمیان اعتماد، مکالمہ اور مسلسل رابطہ نہ صرف مدارس کے مسائل کے حل بلکہ قومی ہم آہنگی اور استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ مدارس کی نمائندگی کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ روایتی وفاقوں کی اپنی تاریخ، خدمات اور تنظیمی حیثیت ہے، جبکہ نئے دینی تعلیمی بورڈز اور متحدہ مدارس کونسل بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مستقبل میں اصل پیمانہ شاید نمائندگی کے دعوے سے زیادہ عملی خدمت اور مسائل کے حل کو ہونا چاہیے۔
مدرسے کے منتظم کے سوال بہت سادہ ہیں: رجسٹریشن کیسے آسان ہوگی؟ بینک اکاؤنٹ کیسے کھلے گا؟ اسناد کی مساوات کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ غیر ملکی طلبہ کے ویزوں میں سہولت کیسے ملے گی؟ اور مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ جدید اور فنی تعلیم کے بہتر مواقع کیسے میسر آئیں گے؟
اسی لیے یہ اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ مدرسہ کسی بھی وفاق، بورڈ یا مسلک سے وابستہ ہو، اس کے جائز قانونی، تعلیمی اور انتظامی مسائل کے حل میں کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔
محاذ آرائی کا خاتمہ اور مکالمے کی سیاست: مدارس کے مسائل کا واحد حل
اسلام آباد میں بینک اکاؤنٹس کھولنے کا آغاز منزل نہیں بلکہ ایک اہم پہلا قدم ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ سہولت پورے ملک کے مدارس تک پہنچے اور رجسٹریشن، اسناد، ویزوں اور دیگر دیرینہ مسائل بھی اسی مکالمے، اعتماد اور ادارہ جاتی رابطے کے ذریعے حل ہوں۔
پاکستان میں مدارس کے حوالے سے اختلاف اور سیاست بہت ہوچکی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر دیکھا جائے اور ان کے جائز مسائل بلاامتیاز حل کیے جائیں۔
اگر حکومت، DGRE، قومی پیغام امن کمیٹی، متحدہ مدارس کونسل اور تمام دینی تعلیمی وفاق و بورڈز اس اصول پر آگے بڑھیں کہ مدرسہ کسی کا بھی ہو، اس کا جائز مسئلہ سب کا مسئلہ ہے، تو مدارس اور ریاست کے تعلق میں اعتماد کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔
آخرکار اصل پیمانہ دعویٰ نہیں، خدمت؛ محاذ آرائی نہیں، مکالمہ؛ اور صرف بیان نہیں، عملی نتیجہ ہونا چاہیے۔