قومی پیغام امن کمیٹی کا ایک سال مکمل، طاہر اشرفی کا امن و رواداری کے عزم کا اظہار

قومی پیغام امن کمیٹی کا ایک سال مکمل، طاہر اشرفی کا امن و رواداری کے عزم کا اظہار

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغام امن کمیٹی پاکستان کے مرکزی کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے اپنے قیام کے پہلے سال کے دوران ملک میں بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاهب رواداری کے فروغ میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کمیٹی کے ایک سال مکمل ہونے پر جاری کردہ اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی ان امن سرگرمیوں کو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی مثبت انداز میں سراہا گیا ہے۔

قیام اور حکومتی و عسکری قیادت کا وژن

حافظ طاہر محمود اشرفی نے بتایا کہ 9 ستمبر کو حکومت پاکستان کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی کا بنیادی مقصد قومی اتحاد کو مضبوط بنانا اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کو ترجیح دینا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس وژن سے جوڑا جس کے تحت ملک میں امن اور بھائی چارے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو اس کمیٹی کے پہلے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

نمائندگی اور بین المسالک اتحاد کے عملی مظاہر

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل ایک تاریخی پیش رفت تھی جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علما کے ساتھ ساتھ غیر مسلم مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا، جو کہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور اہم کوشش ہے۔ کمیٹی نے محض زبانی جمع خرچ کے بجائے بین المسالک اتحاد کے عملی مظاہر پیش کیے؛ جن میں جامعہ رشید، جامعہ اشرفیہ اور ناظم آباد سمیت مختلف مقامات پر مختلف مکاتب فکر کے جید علما کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک ہی امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنا اتحاد کی روشن ترین مثالیں ہیں۔

اقلیتوں سے یکجہتی اور علاقائی صورتحال

کمیٹی کے مذہبی رہنماؤں نے ملک بھر میں گرجا گھروں اور گردواروں کے دورے کرکے غیر مسلم پاکستانیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام شہریوں کا سانجھا وطن ہے جن کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، محرم الحرام کے دوران مثالی اتحاد کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے خطے کی صورتحال، خصوصاً ایران، امریکا اور اسرائیل کے مابین کشیدگی کے تناظر میں ملک کے اندرونی اتحاد کی شدید ضرورت پر زور دیا۔

انتہاپسندی کے خلاف دوٹوک مؤقف اور آئندہ کا لائحہ عمل

مذہبی قیادت نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ سیکڑوں علما اور مشائخ نے ’’فتنہ الخوارج‘‘ اور ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے پس منظر میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ مستقبل کے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے عزم ظاہر کیا کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کے اصولوں کو معاشرے کی نچلی سطح تک پہنچایا جائے گا تاکہ مکالمے، برداشت اور باہمی رواداری کے ذریعے ایک پرامن معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے اور دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کا روشن اور مثبت تشخص اجاگر کیا جا سکے۔

آخر میں، انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ملک بھر سے تعلق رکھنے والے تمام مذہبی رہنماؤں، علما اور مشائخ کی خدمات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن اور رواداری کا یہ سفر مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *