قومی پیغامِ امن کمیٹی کا دوٹوک اعلان: عبادت گاہوں پر قبضے کی ہرگز اجازت نہیں، ماہِ ربیع الاول “پیغام رحمت اللعالمین ﷺ” کے طور پر منایا جائے گا
قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی فرد یا تنظیم کو دوسرے مذاہب و مسالک کی عبادت گاہوں پر قبضے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف قانون پوری سختی سے آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹے گا۔
یہ اہم اعلان قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے ایک اہم دو روزہ اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق اور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس پریس کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام اور اقلیتی برادری کے سرکردہ رہنما بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
اتحاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور بھارتی پروپیگنڈے کی تردید
حافظ طاہر محمود اشرفی نے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی صوبائی کمیٹیاں کامیابی کے ساتھ تشکیل دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ستمبر سے اب تک کمیٹی نے ’’فتنہ الخوارج‘‘ اور ’’فتنہ ہندوستان‘‘ کے خلاف پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا ہے۔ آج ملک کے تمام مسالک اور مذاہب کے رہنما ایک میز پر بیٹھے ہیں اور باہمی خیر سگالی کے تحت ایک دوسرے کے مدارس و عبادت گاہوں کے دورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے محرم الحرام کے دوران تمام مکاتبِ فکر، عوام، حکومت اور افواجِ پاکستان کے تعاون سے مثالی امن کے قیام کو سراہا۔
بھارت کے منفی پروپیگنڈے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت پاکستانی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ہمیشہ جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا کرتا ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور حقوق حاصل ہیں۔ شیخوپورہ میں سکھ پنچایت کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایت پر فوری نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس پر فی الفور کارروائی کی گئی ہے اور کمیٹی کا ایک وفد جلد اس مقام کا دورہ کرے گا۔
میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار اور حکومتی عزم
پریس کانفرنس کے دوران میڈیا اور سوشل میڈیا کے مثبت و منفی کردار پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی۔ حافظ طاہر اشرفی نے ایک نجی ٹی وی چینل پر ناقابل قبول مواد نشر کیے جانے پر پیمرا کے فوری ایکشن کو سراہا اور میڈیا اداروں کو ہدایت کی کہ وہ محض ریٹنگ کے حصول کے لیے قوم کے جذبات مجروح کرنے سے گریز کریں۔
صوبائی وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی براہِ راست نگرانی میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت انتہا پسندی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آنے والے ماہِ ربیع الاول کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے علماء کرام کے تعاون سے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے پاکستان آنے والے سکھ یاتری یہاں کی بھرپور مہمان نوازی اور محبت سے متاثر ہو کر ایک مثبت پیغام لے کر واپس جاتے ہیں، اور حکومت کی جانب سے تمام اقلیتی عبادت گاہوں کی بحالی و تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری ہے۔
علماء و مشائخ اور اقلیتی رہنماؤں کے عزم کا اعادہ
جامعۃ الرشید کراچی کے نمائندے انجینئر مفتی عثمان یوسف نے پاکستان کو “دارالسلام” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کسی بھی قسم کی دھمکیوں کے باوجود وہ ملک میں امن کے اس مقدس مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ادارہ منہاج الحسین کے سربراہ علامہ محمد حسین اکبر نے سوشل میڈیا کے ذریعے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں منفی طاقتوں کا آلہ کار قرار دیا، جبکہ بشپ کامران نے معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔
پریس کانفرنس کے آخر میں تمام شریک اراکین نے روایتی بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر قومی یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا اور اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان میں محبت، امن اور رواداری کی فضا کو ہمیشہ برقرار رکھا جائے گا، اس موقع پر فضا “پاکستان زندہ باد” اور “افواج پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔