قومی پیغامِ امن کمیٹی کے

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے قائدین نے بھارتی پروپیگنڈا مسترد کر دیا، فاروق آباد کی تاریخی دھرم شالہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کا آغاز

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب کے نمائندہ وفد نے ضلع شیخوپورہ کے شہر فاروق آباد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران وفد نے وہاں واقع سکھ برادری کی ایک قدیم دھرم شالہ کی عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس کے خستہ حال اور گرے ہوئے حصے کی فوری تعمیرِ نو کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس اعلیٰ سطحی وفد میں اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر کے علاوہ مسیحی، ہندو اور سکھ برادری کے سرکردہ مذہبی و سماجی رہنما بھی شامل تھے۔

پروپیگنڈے کی حقیقت اور زمینی حقائق

فاروق آباد دورے کے موقع پر پاکستان کے تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے بھارتی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان تمام دعوؤں کو یکسر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا جن میں یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ فاروق آباد میں سکھ برادری کے کسی مذہبی مقام کو منہدم کر کے اس پر ناجائز قبضہ کر لیا گیا ہے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ زمینی حقائق ان جھوٹے دعوؤں کی صریحاً تردید کرتے ہیں؛ یہ دھرم شالہ قیامِ پاکستان سے قبل جس حالت اور پوزیشن میں موجود تھی، آج بھی اسی حیثیت کے ساتھ برقرار ہے اور حالیہ دنوں میں صرف ایک خستہ حال دیوار گرنے کے باعث وہاں مرمتی کام اور تعمیرِ نو کی ضرورت پیش آئی تھی۔

مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کا سانجھا وطن ہے جہاں آئینِ پاکستان کے تحت تمام اقلیتی شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی اور اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے تمام مذہبی مقامات، عبادت گاہوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اور ایسے تاریخی مقامات کی بحالی و دیکھ بھال حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی امن کا فروغ

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رہنماؤں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور باہمی احترام پاکستانی معاشرے کی بنیادی اقدار ہیں، جبکہ تمام غیر مسلم شہریوں کی جان و مال، ان کے حقوق اور مقدس مقامات کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ آخر میں بھارتی پروپیگنڈے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ اس قسم کی گمراہ کن اور جھوٹی اطلاعات پھیلانے کا واحد مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور نفرتیں پھیلانا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے مقدس مقامات کے تقدس، احترام اور تحفظ کو عملی اقدامات کے ذریعے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *